طاغوت سے انکار یا جهوٹ کا تومار

 

516104-harfaraz-1463679503-973-640x480

 

اوریا مقبول جان اور خورشید ندیم کے مکالمے سے قطع نظر نہایت اہم ہے کہ اوریا مقبول کے مضمون ‘طاغوت سے انکار- غلطی ہائے مظامیں’ میں کی گئیں چند باتوں کا جواب دیا جائے۔

ہمارا یہ ماننا ہے کہ دونوں کالم نگاروں کی بحث کی بنیاد ہی غلط مفروضوں اور مغالطوں پرہے لہٰذا اس موضوع پر زیادہ گفتگو لایعنی ہے۔ صرف اتنا کہنا ضروری ہے کہ تاریخ کو اگر مغالطوں اور متعصب عقائد کی بنیاد پر پڑھا جائے تو اسے کم از کم تاریخ نہیں کہا جاسکتا۔ اور کسی بحث کے مفروضات ہی اگر غلط ہوں تو ضمن میں چاہے جو بھی کہا جائے اسکی کوئی وقعت نہیں۔ مثلاً اگر رسول اللہ (ص) کی وفات کے بعد خلافت اور حقِ حاکمیت ہی متنازعہ ہے تو پھر بغاوت، انقلاب، خروج اور حکومت سب کے معنی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ خلافت یا نام نہاد خلافتِ ثالثہ کو نص کی حیثیت دینا یا رسول اللہ (ص) کے بعد سقیفائی حکومت کو برحق تسلیم کرنا اور مستقبل کے تمام واقعات کے لیئے کسوثی قرار دیکر معیار سمجھنا کسی کا عقیدہ تو ہو سکتا ہے تاریخی حقیقت نہیں۔ تمام مکاتب فکر کی کتب میں بکثرت روایات نا صرف خلافتِ ثالثہ کے متنازع ہونے پر دلالت کرتی ہیں بلکہ اہلسنت کی ہی بہت سی کتب اس خلافت کا ابطال بھی ثابت کرتی ہیں۔ اس صورت میں کم از کم ان دو کالم نگاروں کے پاس اوائل اسلام کے واقعات اور سیاسی تحاریک پر اس یقین کے ساتھ گفتگو کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

گو کہ زیر بحث مکالمے کی سرے سے بنیاد ہی غلط ہے لیکن اپنے مضمون میں اوریا مقبول نے چند دیگر باتیں کی ہیں جن پر کفتگو ضروری ہے۔ یہ ضرورت صرف تاریخی یا فرقہ وارانہ اختلافِ رائے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس تحریر سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ اوریا مقبول جیسے نام نہاد لکھاری کس قدر ڈھٹائی سے نہ صرف جھوٹ بولتے ہیں بلکہ کس حد تک انکی تحریروں میں فرقہ وارانہ نفرت کی آمیزش ہے۔

خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان کے قتل کےبارے میں گفتگو کرتے ہوئے موصوف نہایت سرسری طور پر اسے ایک سبائی سازش قرار دیتے ہیں۔ دروغ گوئی اور وضعِ حدیث ایک پرانا ناصبی ہتھیار ہے اور ابنِ سبا کا جھوٹا قصہ بھی انہی موضوعات میں سے ایک ہے۔ لیکن مسئلہ صرف اوریا مقبول کی دروغ گوئی کا نہیں بلکہ موصوف غیر محسوس طریقے سے خلیفہ سوم کی قتل کی ذمہ داری اہل تشیع پر ڈالنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ گو کہ وہ یہ کہ سکتے ہیں کہ انہیں نے لفظ سبائی استعمال کیا ہے اور ہم بلا وجہ اسکی غلط تشریح کر رہے ہیں لیکن ہماری ان سے گزارش ہے کہ پروپیگنڈے کا طریقہ کار ہی یہ ہے کہ کسی پییغام کو غیر محسوس طریقے سے عام کیا جائے۔

گو کہ اس موضوع پر علامہ مرتضیٰ عسکری کی معرکتہ الارا کتاب کے بعد بحث تمام ہو جانی چاہیے تھی لیکن چونکہ اوریا مقبول جیسے پاکستانی نواصب علمی مباحث اور انکے اسالیب سے بہت دور ہیں لہٰذا اس موضوع پر کچھ باتیں انکے اور دیگر قارئین کے گوش گزار کرنا ضروری ہیں۔

قتل عثمان کے بارے میں جو کہانی گڑھی گئی ہے اس کا خلاصہ یہ کہ عبداللہ ابن سباء ایک یہودی دشمن ِاسلام اور شیعہ مذہب کا بانی تھا ۔ اسی نے خلیفہ سوم کے خلاف بغاوت اور ان کے قتل کی قیادت کی۔ لیکن اوریا مقبول جیسے علمِ حدیث و رجال سے بے بہرہ نواصب یہ بھول جاتے ہیں کہ ان تمام تر روایات کا راوی سیف بن عمر نامی ایک شخص ہے جسے تقریباً تمام محدثینِ اہل سنت نے کاذب اور غیر معتبر حتٰی کہ زندیق بھی کہا ہے۔
ان محدثین میں امام نسائی، امام حاکم، امام ابو داود، امام ابن الجوزی، علامہ ذہبی بھی شامل ہیں۔ قتلِ عثمان میں نام نہاد سبائیوں کے کردار پر جتنی بھی روایات ہیں وہ سب سیف بن عمر سے ہیں۔ یہ جھوٹ بولتے ہوئے ان بد بختوں کو یہ شرم بھی نہیں آتی کہ ان رد شدہ روایتوں کو صرف بغضِ شیعہ میں دہرا کر یہ توہینِ صحابہ کے بھی مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ دیگر صحابہ کے ساتھ ساتھ سیف بن عمر تمیمی نے حضرت ابو ذر غفاری اور حضرت عمار یاسر جیسے جلیل القدر اصحاب کو بھی ابنِ سبا کے پیروکاروں میں شمار کیا ہے(حوالہ: نحوالنقازالتاریخ، حسن بن فرحان المالکی، صفحہ ۷۱ اور ۱۴۹)۔ اب ہمارا اوریا مقبول جان سے سوال ہے کہ کیا سبائیوں سے اسکی مراد صحابہ بالخصوص حضرت ابو ذر غفاری اور حضرت عمار یاسر ہیں؟ گو کہ سیف بن عمر کے علاوہ چند ایک روایات ہیں جن میں ابنِ سبا کا نام آتا ہے لیکن یا وہ تو بغیر سند کے ہیں یا ان میں ابن سباء حضرت علی علیہ سلام کے دورِ خلافت میں منظر عام پر آتا ہے اور ان سے سزا پاتا ہے۔ گو کہ وہ تمام روایات بھی ضعیف ہی ہیں یا پھر مجہول اور سیف بن عمر سے ہی متاثر شدہ۔ اسی لیئے موجودہ دور کے سلفی عالم حسن بن فرحان المالکی کا کہنا ہے کہ ‘سيف بن عمر لكونه المصدر الوحيد الذي روى أخبار عبدالله بن سبأ’ یعنی عبداللہ ابنِ سبا کے بارے میں تمام روایات کا وآحد ذریعہ سیف بن عمر ہے’
(حوالہ: نحوالنقازالتاریخ، صفحہ۲۶۱)۔
ہمیں کسی کی دل آزاری مقصود نہیں لیکن خود کتب اہلسنت اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ حضرت عثمان کے قتل میں دراصل بعض صحابہ ملوث تھے جیسا کہ حضرت طلحہ اور زبیر۔ ابن حجر عسقلانی جیسے اہل سنت کے امام الحدیث نے الاصابہ میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جمل میں طلحہ کو تیر مار کر قتل کرنے کے بعد مروان بن حکم نے اعلان کیا کہ اس نے حضرت عثمان کے قتل کا بدلہ لے لیا ہے۔ اس روایت کو صحیح سند کے ساتھ امام حاکم نے مستدرک میں اور ذہبی نے سراعلم النبلاء میں نقل کیا ہے۔ طبقات ابن سعد جس کا حوالہ اوریا مقبول نے بھی دیا ہے میں بھی یہ واقعہ درج ہے۔ الاستعاب اور تاریخ طبری میں حضرت علی علیہ سلام کا خطبہ بھی نقل ہے جس میں وہ طلحہ اور زببر کے ساتھ حضرت عائشہ کو بھی قتلِ عثمان کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

نواصب کے لیئے اس سے بھی زیادہ مشکل اس بات کا قبول کرنا ہو گا کہ عثمان کے قتل کا فتویٰ ام المومنین حضرت عائشہ نے دیا تھا۔ بہت سے دیگر علماء کے ساتھ ساتھ ابنِ اثیر نے النہایہ، ابنِ قتیبہ نے الامامہ والسیاسہ، علی برہان الدین حلبی نے سیرتِ حلبیہ اور لسان العرب (نعثل کے ضمن میں) میں ابن منظور نے بھی اسے نقل کیا ہے۔ اور ویسے بھی حضرت عائشہ کی خلیفہ سوم سے دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اسی لیے بدلے میں معاویہ نے انکے بھاِئی جناب محمد بن ابو بکر کو قتل کروایا اور حضرت عائشہ روز معاویہ اور عمر بن عاص پر لعنت کرتی تھیں (تاریخ کامل، تذکرہ الخواص، تاریخ ابن الوردی)۔

ان ہزلیات کے علاوہ بھی اوریا مقبول کے مضمون میں جھوٹ کے انبار ہیں مگر ان سے فی الوقت احراز کر کے صرف اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں تمام احباب کو غور کرنا چاہیے کہ کیسے ایک بالکل غیر مربوط واقعے کو نقل کر کے بھی اوریا مقبول جیسے متعصب لوگ فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر امام مالک کا ایک فرضی واقعہ نقل کر کے موصوف فرماتے ہیں کہ چونکہ تشدد کی وجہ سے انکے ہاتھ جڑ سے اکھڑ گئے تھے لہٰذا انکے پیروکار آج بھی ہاتھ کھول کر نماز پڑھتے ہیں۔ اس بات کا جواب بعد میں دیا جائے گا کہ امام مالک کا طریقہ نماز کیا اور کیسا تھا یا جناب رسول آللہ (ص) کس طرح نماز ادا کرتے تھے لیکن ہم پہلے یہ سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس موقع پر اوریا مقبول کو امام مالک کی نماز کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت کیا تھی جبکہ اسکا موضوع سے کوئی تعلق نہیں؟
اس توجیح کی وجہ صرف یہ تھی کہ اوریا مقبول یہ ثابت کرنا چاہتے تھےکہ اہل تشیع سے مالکیوں کی نماز کی مماثلت حادثاتی ہے۔ ان کی اطلاع کے لئیے عرض ہے کہ امام مالک صرف فرض نماز میں رفع یدین کے قائل تھے اور نوافل کے لئے ہاتھ باندھنے کی اجازت دیتے تھے۔(شرح مسلم، علامہ غلام رسول سعیدی؛ شرح مسلم النووي ترجمہ علامہ وحید الزماں)۔ دلائل اور حوالہ جات کے ڈھیر موجود ہیں لیکن ثابت صرف اتنا کرنا ہے کہ اوریا مقبول کی بات بے تکی اور جھوٹی ہے۔ اور امام مالک شروع سے فرض نماز ہاتھ کھول کر پڑھنے کے قائل تھے اور دلیل کے طور پر رسول اللہ (ص) کے طریقہ نماز کا حوالہ دیتے (الھدایہ، جلد ۱، صفحہ ۱۰۴، حصہ ۲۰)۔ اس کے علاوہ بھی کتب اہل سنت میں ہی رسول اللہ (ص)، اہل بیت (ع)، صحابہ اور تابعین کا طریقہ نماز بھی بعینہ وہی بتایا گیا ہے جیسا کہ اہل تشیع کا ہے۔

ہمارا مقصد اختلافی مباحث میں الجھنا نہیں ہے لیکن اگر کوِِئی مجبور کرے تو ہم اسکا جواب دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ ہمیں اوریا مقبول جان اور دیگر نواصب سے تو کوئی امید نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ بولتے رہینگے مگر کم از کم ٹی وی اور اخبار ملکان اور مدیران سے گزارش ہے کہ ایسے متعصب افراد کو پروپیگنڈا نہ کرنے دیا جائے۔

One thought on “طاغوت سے انکار یا جهوٹ کا تومار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *